ماہ جولائی کے لیے ینگ ویمن رائٹرز فورم، اسلام آباد چیپٹر نے اپنی ممبران کو ایک مختصر ویڈیو دی اور ان سے کہا کہ اس ویڈیو میں نظر آنے والے کرداروں میں سے کسی ایک کے گرد ایک مختصر سی کہانی بعنوان “پھر یوں ہوا” بنیے، جس میں ممبران نے جوش و خروش سے حصہ لیا ۔

“پھر کیا ہوا” تحریری مقابلے کا رزلٹ

اول : ثروت نجیب 🎉
دوم : ابصار فاطمہ 🎊
سوم : صوفیہ کاشف 🎈

💠💠💠💠💠💠💠💠💠

 مختصر افسانہ نویسی کے مقابلہ “پھر یوں ہوا” میں پہلے تین انعامات حاصل کرنے والی تحاریر ۔۔۔

💠💠💠💠💠💠💠💠💠

اول انعام : ثروت نجیب

” جہنمی لوگ “

“آہ سفاکی اور ظلم کی انتہا ‘ کیسے لوگ ہیں یہ ‘”
آبنوسی بالوں کی جھالر سے جھانکتی اس کی چندھی آنکھیں سکرین پہ مرکوز اور انگلیاں بےچینی سے ماؤس کو جنبش دے رہی تھیں ـ ایک کے بعد ایک’ انکشاف اسے ماضی میں دھکیل دیتا ـ نسواری لپ اسٹک والے ہونٹ پریشانی سے سکڑتے وہ سر کو جھٹک کے پھر سکرین پہ جھک جاتی ـ میز پہ پڑی سفید پیالی میں پڑی کافی کب کی یخ ہو چکی تھی ـ آج رپورٹ جمع کروانے کی آخری تاریخ تھی ـ امیکو کو یورپ آئے بیس سال ہو چکے تھے اس کے ڈچ شوہر نے اسے مشورہ دیا تھاکہ وہ اپنا کوئی یورپی نام رکھ لے تاکہ وہ یہاں کے لوگوں سے منفرد نہ لگے مگر امیکو نے کہا!
” انفردیت ہی تو میری پہچان ہے جانِ من”
جب وہ پہلی بار افغانستان گئی تو مقامی لڑکیوں کی طرح ڈھیلا لباس پہن’ پھولدار حجاب اوڑھے مزے سے کابل اور اس کے اطراف میں گھومتی رہی ـ’ اس کا گول مٹول چہرہ ‘ چھوٹا قد اور چپٹی ناک دیکھ کر اسے ہزارہ قومیت والے بھی ہزارہ ہی سمجھتے رہے ـ
“نام کیا ہے اس کا ؟”
امیکو نے نرس سے پوچھا
” جی! زرلخت، ”
عمر؟
“تیرہ سال ــ”
مطلب شادی ایک سال پہلے ہوئی اور: یہ اس کا پہلا بچہ ہے ـ امیکو نے اندازہً کہا!
جی جی نرس نے تابعداری سے جواب دیا
امیکو اپنی نوٹ بک پہ جھکی زرلخت کی رودار لکھنے لگی ـ
“زرلخت ستر ہزار کلداری کے عوض پینتالیس سال کے بے اولاد آدمی کی دوسری بیوی ہے ”
سامنے بستر پہ لیٹی نحیف و نزار زرلخت کی آنکھ سے آنسو ٹپکا اور بہتا ہوا کان کی نکر پہ تحلیل ہو گیا ـ ایک مردہ بچے کو جنم دینے والی اب کبھی ماں نہیں بن سکتی ـ
چودہ سالہ دبلی پتلی ترکمن گڑیا مرسل اسے دارلامان میں ملی جس کی شادی پچاس سال کے رنڈوے سے ہوئی ـ وہ اس پہ شک کرتا تھا ـ ایک دن مُرسل گھر سے بھاگ گئی ـ ایک آدمی اس پہ ہاتھ صاف کرنے کے بعد اسے دارلامان چھوڑ گیا ـ
امیکو نے مرسل کے ریشمی بالوں کو اس کے چہرے سے ہٹایا تو دائیں آنکھ سے گال تک تقریباً دس ٹانکوں کے نشان تھے ـ امیکو نے لرز کے مرسل کے بالوں کو چھوڑ دیا ـ بالوں نے لہر در لہر سفر کر کے دوبارہ چہرے کو ڈھانپ لیا ـ جاتے وقت اس نے مرسل سے وعدہ کیا کہ وہ اسے اپنے پاس بلائے گی ـ مرسل ایک بہترین قالین باف تھی ـ
اف ـــ مرسل ننھی سی جان! اسے یاد آیا اِ.سی بابت اس نے کل افغان سفیر سے ملنا ہے ـ سیل فون پہ اس نے تاریخ مارک کی ـ
چھ سو پچاس داستانیں ـــ
چھ سو پچاس کم سن لڑکیاں ـــ
نہیں چھ سو پچاس زندہ درگور لاشیں ـــ
اسے یاد ہے جب دارلامان کے منشی نے کہا کہ مادام اِس طرف نہیں اُس طرف آئیں ـ
امیکو چونکی مگر یہ لڑکیاں؟
” آپ کو کم سن لڑکیوں پہ ریسرچ کرنی ہے نا! یہ تو پنرہ ‘،سولہ سال کی ہیں ”
اس نے اپنی خشخشی داڑھی کجھاتے ہوئے کہا
” ہمارے پاس آٹھ ‘ نو ‘ دس سال کی بہت سی شادی شدہ بچیاں ہیں ”
امیکو دہل گئی تھی ـ اس نے دل میں کہا !
“اتنی کم سن بیٹیوں کو بیاہنے والے اور بیاہ کر لے جانے والے دونوں ہی جہنمی ہیں ـ”
امیکو کا فولڈر ایسی داستانوں سے بھر چکا تھا جو”جہنمی لوگ ” کے نام سے اس کے ڈیسک ٹاپ پہ سیو تھا ـ امیکو نے عالمی تنظیم کے لیے اپنی رپورٹ میں درج کیا ـ” غربت فساد کی جڑ ہے اور مسائل جہالت کے درخت کا پھل ہیں ـ ”
اُسی وقت امیکو کی عقبی جانب کھڑی کے پیچھے سڑک پہ میٹرو گزری ـ جس کے اندر بیٹھی بارہ سالہ سرخ بالوں اور چندھی آنکھوں والی لڑکی اپنی انگلیاں چٹخاتے ہوئے سوچ رہی تھی وہ کیسے ماں کو بتائے کہ وہ حاملہ ہو چکی ہے ـ اسے یہ بھی نہیں معلوم اس کی کوکھ میں پلتا بچہ اس کے بوائے فرینڈ کا ہے یا ٹینس کوچ کا ـ جو اِسے بےحد برا لگتا ہے مگر وہ مسلسل پچھلے چھ ماہ سے اسے ہراساں کر رہا ہے ـ ” ہشششش اگر تم نے کسی کو بتایا تو تمھارا مستقبل تاریک کر دوں گا ـ

💠💠💠💠💠💠💠💠💠

دوم انعام : ابصار فاطمہ

مؤلف کی درخواست پر ان کی کہانی یہاں شیئر نہیں کی جا رہی ۔

💠💠💠💠💠💠💠💠💠

سوم انعام : صوفیہ کاشف

” دوراہا “

جب ہم دونوں نے خوبصورت زندگی ساتھ ملکر بنانے کا خواب دیکھا تھا تو کون جانتا تھا کہ یہ ہجرت ہماری محبت اور ساتھ کو دنیا کی تیز رفتاری میں گم کر بیٹھے گی۔روزانہ وہ گھر کو لوٹتا تو مجھے کام کے لئے بھاگتے دوڑتے نکلنا پڑتا،بسیں بدلتے،بھاگتے دوڑتے کام پر جاتے،سارا دن سپر مارکیٹ کی مزدوری کر کے شام کو لوٹتی،تو دروازے پر ویلکم اور بائے کا اک بوسہ ،،اور پھر وہی ذندگی کی تنہائی۔۔ہماری چاہت اور خواب،ارمان اور جزبے کسی بس میں یا سڑک پر یا سپر مارکیٹ کی بوتلوں کے ڈھیر پر نجانے کہیں گر گرا گئے اور ہمیں ڈھونڈنے کا وقت تک نہ ملا۔اب جو سنڈے کی گروسری کے بعد اک زرا سانس لینے کو اور حساب کتاب کرنے کو بیٹھی،تو خسارے ایسے تھے کہ بھر نہیں پاتی۔خرچے اور حصول میں اک غیر معمولی فرق تھا کہ دل ،جان،ذندگی لٹا کر بھی پورا نہ پڑتا تھا۔اور وہ۔۔۔۔نجانے کہاں تھا،رات بھر کی مزدوری کی تھکن اتارتا میرے خواب کہاں دیکھتا ہو گا!شاید سپنوں میں آزادی کو تکتا ہو گا،اس مشقت بھری تیز رفتار زندگی سے آذادی،ان خواب آلود تنہائیوں سے آزادی،اس تھکا دینے والے سفر سے آذادی۔۔۔۔!وہ آنکھیں جنہیں دیکھتے ہم نے کتنے دور کی خواہش باندھی تھی اب ڈھونڈنے سے بھی نہ ملتی تھی،نہ اسے،نہ مجھے!میں دودھ،دہی،دوائ،ڈش واشر کے اک اک ڈالر کا حساب کرتی،،،اور جواب گھاٹا پاتی۔پھر آس پاس نظر دوڑاتی،لوگوں کے چہرے کی روشنی پرکھتی،انکی ذندگی میں کاملیت دیکھتی،پھر اپنی سمت دیکھتی اور دو جمع دو،چار تفریق چار کرتی،،،،آخر ان خساروں کا انت کہاں تھا؟ ہم دونوں ہاتھوں سے گھاٹے تھامے بیٹھے تھے اور سپنوں کی تلاش میں نیندیں تک گما بیٹھے تھے۔مجھے آج اس حساب کو مکمل کرنا تھا۔مجھے اس محبت کو کھوجنا ہو گا جس کے آسرے پر ان کٹھنائیوں میں اترے تھے۔مجھے پھر اک بار اسکی آنکھوں میں دیکھنا ہو گا اور اس سے پوچھنا ہو گا۔”یہ خواب رکھ لو؟یا پھر مجھے؟”

💠💠💠💠💠💠💠💠💠