ینگ ویمن رائٹرز فورم پاکستان کی بانی بشرٰی اقبال ملک نے رمضان المبارک میں فورم کی ممبران کے لیے اس ماہِ مبارک میں رحمتیں اور برکتیں سمیٹنے کے ساتھ ساتھ ان کا قلم سے رشتہ برقرار رکھنے کے لیے ایک آن لائن مقابلے کا انعقاد کیا ۔ مقابلے کا عنوان تھا ‘ رمضان کے انسانی نفسیات پر اثرات ‘ ۔

اس حوالے سے ممبران اپنی تخلیقات ‘ مضمون ، کہانی اور نظم ‘ کی صورت پیش کر سکتے تھے ۔ ‘ مضمون اور کہانی ‘ کے لیے الفاظ کی حد تین سو تا پانچ سو رکھی گئی جبکہ ‘ نظم ‘ الفاظ کی قید سے مبرا قرار پائی ۔

تخلیقات جمع کروانے کی آخری تاریخ بائیس رمضان تھی ۔ ہر ممبر صرف ایک ہی صنف میں طبع آزمائی کر سکتا تھا ۔ اول ، دوم اور سوم آنے والے ممبران کو تحائف اور اسناد جبکہ مقابلے کے دیگر شرکاء کو اسناد سے نوازنے کا اعلان کیا گیا ۔ تخلیقات کی درجہ بندی کے فرائض فورم کی بانی بشرٰی اقبال ملک نے ادا کیے ۔

🎉🎉🎉🎉🎉🎉🎉🎉

انعامی مقابلہ کے نتائج

موضوع ، بنت ، مرکزی خیال اور سلاست و روانی کے لحاظ سے ۔۔۔

اول انعام : طاہرہ غفور
دوم: رضوانہ نور
سوم : ھدی شیخ

مقابلے کی منصف بشری اقبال نے دیگر شرکاء کے لیے پیغام میں کہا : ” سب نے بہترین لکھا بے ۔ بنت الھدی نے بے حد محنت اور توجہ سے انٹرویوز کے ذریعے خیالات کو اکٹھا کیا جو بہترین طریقہ ہے ۔ ثروت نجیب نے مختلف ریسرچز کے حوالے دیے جو ان کے مطالعہ اور تحقیق پر یقین کا ثبوت ھے ۔ عروج احمد نے بہترین طریقے سے تمام نکات کی تشریح کی ۔ ام کلثوم نے روزہ رکھ کر روز مرہ کاموں سے بہانے بنانے والوں کے حوالے سے خوب لکھا ۔ سب بہترین ہیں ۔ اول ، دوئم نہ آنے والے کم نہیں ہیں لیکن خیال اور انداز بیان پر ذیادہ توجہ دی گٸی ہے جو فورم کا مقصد اول ہے ۔ ادب اور تحریر کی دنیا میں چھاۓ ہوۓ جمود کو توڑنا اور بات کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کا ہنر دینے کے لیے ہی فورم تحریک چلا رہا ہے ۔ “

🎈🎈🎈🎈🎈🎈🎈🎈

فورم کی کوفاؤنڈر رابعہ بصری نے تمام شرکاء کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اول آنے والوں اور نہ آنے والوں میں فرق تجربے ، مشاہدے اور تکنیک کا ہوتا ہے ورنہ میری نظر میں سب شرکاء فاتح ہیں ۔

🎆🎆🎆🎆🎆🎆🎆🎆

ینگ ویمن رائٹرز فورم اسلام آباد چیپٹر کی صدر فرحین خالد نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ینگ ویمن رائٹرز فورم کے ان تحریری مقابلوں کا مقصد ممبر لکھاریوں کی فکری، شعوری اور تحریری نشوونما کرنا ہے. میں محترمہ بشری اقبال کی مشکور ہوں جن کی تائید و حمایت سے یہ پروجیکٹ پایہ تکمیل کو پہنچا. فورم کی تمام ممبرز کے لیے دعائیں نیک خواہشات اور پیشگی عید مبارک .

🎊🎊🎊🎊🎊🎊🎊🎊

رپورٹ : عروج احمد
………….

ینگ ویمن رائٹرز فورم ، اسلام آباد چیپٹر کے رمضان مقابلے کی وہ تخلیقات جو پہلی تین پوزیشنز کی حقدار قرار پائیں ۔۔۔ 🎉🎈🎉🎈🎉

🎌 طاہرہ غفور کی اول قرار پانے والی تحریر

” روزہ اور مرد و زن کے فرائض میں تخصیص “

رمضان المبارک کی بابرکت ساعتیں تیزی سے گزر رہی تھیں۔مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ ابھی تک کچھ ذیادہ عبادات نہیں کر پائ۔کب سحر سے افطار ہوتا ہے کچھ پتہ ہی نہیں چلتا ۔آج بھی افطار کے بعد کام نبٹانے کی سعی کر رہی تھی۔پورا جسم پسینے میں شرابور تھا،سر میں شدید درد اور ادھ موئی سی کیفیت تھی۔ایسے میں مجھے سلیم نے آواز دی۔۔۔۔”بھئی ایک گلاس پانی تو پلا دو”
ایک گھنٹے میں سلیم نے مجھے یہ چوتھی مرتبہ آواز دی تھی۔۔۔۔میں نے پانی کا گلاس بھرا اور سلیم کو دیتے ہوئے بولی۔۔۔”جناب تھوڑی سی ہمت خود بھی کر لیا کریں ۔۔۔اپنے ہاتھ سے کام کرنا سنت نبوی ﷺ ہے۔۔۔اور انتہائی احسن فعل ہے۔۔۔۔”
سلیم مجھے دیکھتے ہوئے بولے۔۔۔” بیوی کے کاموں میں شوہر کی خدمت بھی شامل ہے۔میری خدمت تم پر فرض ہے اور جتنا ہو سکے میری خدمت یہاں کر لو…وہاں تو ویسے بھی خوبصورت آنکھوں والی ستر حوریں میرے آگے پیچھے ہوں گی۔۔۔۔”ان کی بات سن کر میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی۔۔۔”مسکرا کس خوشی میں رہی ہو۔۔۔۔؟؟
مجھے مسکراتے دیکھ کر انہوں نے استفسار کیا اور پھر سے دور خیالوں میں بڑی آنکھوں والی مشک و عنبر سے دھلی حوروں کو تصور کی آنکھ سے دیکھنے لگے۔۔۔کام نبٹاتے نبٹاتے پتہ ہی نہیں چلا۔وقت دیکھا تو عشاء کی اذان ہوئے آدھا گھنٹہ گزر چکا تھا۔میں نماز پڑھنے کے لیے جانے لگی تو نظر سلیم پر پڑی۔وہ ٹاک شو سننے میں بری طرح مگن تھے۔جماعت تو کھڑی ہو چکی ہو گی آپ نے نماز پڑھنے نہیں جانا۔۔۔؟نماز نہیں چھوڑنی چاہیے۔۔۔”
سلیم نے گھور کر مجھے دیکھا اور بولے”روزہ رکھ کر اتنی کمزوری محسوس ہونے لگتی ہے کہ اب مسجد جانے کی ہمت نہیں۔دفتر میں الگ سارا دن مغز ماری کرو۔۔۔۔تمہارے تو مزے ہیں صبح سے شام تک گھر میں پڑی اینٹھتی رہتی ہو۔اور اب چلی مجھے نصیحت کرنے۔۔۔۔نہایت ہی بے عقل عورت ہو شوہر کے آرام کا ذرا خیال نہیں۔”
میں افسردہ سے ہو کر نماز پڑھنے چل دی۔نماز تراویح اور تلاوت سے فارغ ہو کر دیکھا تو سلیم لاؤنج میں ابھی تک سابقہ پوزیشن میں بیٹھے تھے۔اب دو گھنٹے بے کار میں بیٹھنے کی ہمت نہ جانے کہاں سے آگئی تھی۔یوں ہی دن گزرتے چلے گئے۔
رمضان کا آخری عشرہ شروع ہونے والا تھا۔میری خواہش تھی کہ میں اعتکاف بیٹھوں۔خواہش سے ذیادہ یہ بات تھی کہ میں نے منت مانی ہوئی تھی۔ایک مرتبہ سلیم کا ایکسیڈینٹ ہو گیا۔جان کے لالے پڑ گئے۔میں نے رو رو کر ان کی زندگی کی دعا کی اور اعتکاف کی منت مان لی۔
سلیم کے سامنے اپنی خواہش کا اظہار کیا تو بہت خفا ہو گئے ۔”کھانا ،گھر کی صفائی،کپڑے دھونا اور دیگر امور کون سر انجام دے گا۔؟؟چلو مان لیا میرے لیے سحری و افطاری بنا کر تم کچن میں رکھ دو گی لیکن باقی امور؟؟نہ بھئی نہ۔۔۔مجھ سے تو کوئی کام نہیں ہوتا روزے کے ساتھ۔۔۔۔کیا میرے روزے چھڑوانا چاہتی ہو؟کچھ تو خیال کرو۔۔۔۔”وہ بولتے ہی چلے گئے۔۔۔میں کہنا چاہتی تھی کہ میرے روزے میری نماز،میری خواہش کا کیا؟؟لیکن بس اتنا ہی کہہ پائی کہ”میں نے منت مانی ہوئی تھی۔”
“ہاں تو کیوں مانی ،،،مجھ سےپوچھ کر مانی تھی؟؟۔۔۔۔”یہ بہت عجیب بات تھی۔لیکن وہ مزید کہہ رہے تھے کہ”عبادتیں تب ہی قبول ہوتی ہیں جب شوہر راضی ہو۔ذیادہ بحث مت کرو اب۔۔۔۔۔”
میں اس سوچ میں گم تھی کہ ہم زمین پر رہنے والے لوگ کیسے فتویٰ دے سکتے ہیں کہ آسمان والے کے نزدیک کس کی عبادتیں قبولیت کا درجہ پاتی ہیں۔۔۔۔اور ایک ہی جیسے دو انسان مرداور عورت کے جسم و نفسیات پر بھوک ،تھکن ، اور مصروفیت کس حساب میں برابر اثر انداز نہیں ہوتی؟روزہ جو تزکیہ نفس،اور خواہشات کو قابو میں کر کے دین پر چلنے کی راہ ہموار کرتا ہے ،لیکن یہ کیسے اثرات ہیں جو عورت اور مرد کی ذمہ داریوں کی تخصیص کر کے مرتب ہوتے ہیں۔۔۔۔بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ ہم انسان اپنی مرضی سے تقسیم کر لیتے ہیں۔۔۔۔سحری میں کچھ ہی وقت باقی تھا۔۔۔۔آنکھوں کے پپوٹوں پر اترتی نیند کی کالی آندھی میری سوچوں کو اپنے بھنور میں لے چکی تھی۔۔۔
۔۔۔

🎌 رضوانہ نور کی تحریر جو دوم ٹھہری

” رہبانیت “

رمضان شروع ہوگیا تھا مگر کلاسز ختم نہیں ہوئی تھیں . سب نیند سے بوجھل آنکھیں لیے لیکچر کی طرف دھیان لگانے میں مصروف تھے روزہ صرف طالبعلموں کو نہیں استاد محترم کو بھی لگ رہا تھا. وہ دورانِ لیکچر ادھر ادھر جمپ کر جاتے تھے کہ اچانک کوئی بات سمجھانے کے لیے انھیں ایک گانے کا سہارا لینا پڑا اور وہ انتہائی دلکش آواز میں گنگنائے…..
دل دیاں گلاں کران گے نال نال بہ کے
اکھ نال اکھ نوں ملا کے….
ابھی دوسرا مصرعہ ان کے منہ میں ہی تھا کہ اچانک سے کلاس کے ایک کونے سے آواز آئی, سر جی کیا کر رہے ہیں ؟
سرگانا روک کر اس آواز کی سمت پلٹے اور پوچھنے لگے کیا ہوا؟
سر آپ گانا گا رہے تھے حرا کا جواب بے ساختہ تھا .
ہاں تو یہی پوچھ رہا ہوں کہ کیا ہوا نہیں گاناچاہیے تھا ؟ وہ مکمل حرا کی جانب مڑچکے تھے
سر وہ رمضان میں گناہ ہوتا ہے حرا نے اپنی توجیہہ پیش کی. اچھا میرا خیال ہے رمضان میں تو گانا گانا چاہیے کیوں کہ گانا توروح کی غذا ہے اور ویسے بھی رمضان میں غصہ زیادہ آتا ہے تو اسکو بھی تو برداشت کرنا ہے .بغیر موسیقی کے سن لیا کرو.
یہ مکالمہ محض ایک سے دو منٹ کا تھا مگر کلاس میں حرا کے مقابل بیٹھی ابرش کے خیالوں کی تار چھیڑگیا.

ابھی رات ہی کی تو بات ہے جب اس نے عمار سے کہا آپ دو دن سے مجھ سے بات کیوں نہیں کررہے؟ تو عمار نے کتنی سادگی سے کہا یار رمضان ہیں نا تو اس لیے واٹس ایپ, فیس بک, میسنجر سب ان اِنسٹال کر دیا ہے رمضان کے بعد بات کریں گے نا. وہ اپنی جگہ ہکی بکی رہ گئی تھی.
رات تراویح پڑھنے کے بعد وہ چائے کا مگ ہاتھ میں تھامے کمرے میں آئے اور موبائل پکڑ کر بیٹھ گئی آج تو اس گروپ میں کوئی شرارتی پوسٹ کرنا بنتا ہے
سب نے کافی سکون کرلیا اس نے فیس بک پر لاگ ان کرتے ہوئے سوچا اور جیسے ہی اس نے گروپ میں پوسٹ کرنے کے لئے گروپ کا لنک کھولا تو یہ کیا محترم دوستو گروپ میں پوسٹ کا سلسلہ رمضان کے تقدس کے پیش نظر روک دیا گیا ہے عید کے بعد پوسٹ کی جاسکے گی.
یہ کیا ہو رہا ہے آخر ؟ وہ پر سوچ انداز میں خود سے گویا ہوئی اس کے ذہن کی رو کہیں ماضی میں بھٹکی تھی..
بابایہ اتنے بڑے بڑے دروازے بندکیوں ہیں؟ اس نے بہت معصومیت سے پوچھا تھا.
بیٹا انہیں ڈیمزکہتے ہیں یہ دروازے تب تک بند رہتے ہیں جب تک دریا کا بہت سا پانی یہاں جمع نہ ہو جائے. سرمد نے رسانیت سےجواب دیا .
لیکن بابا جب بہت سا پانی جمع ہو جائے تو کیا کرتے ہیں ؟
پھر یہ دروازے کھول دیتے ہیں اور زائد پانی پورے پریشر کے ساتھ یہاں سے آگے نکل جاتا ہے
تو بابا پھر پانی کے آگے جو بھی آتا ہے وہ ساتھ بہہ جاتا ہے اس کے اندر تجسس کا لاوا ابل رہا تھا .
جی بیٹا اسی لئے تو سیلاب آتے ہیں کہ ہمارے پاس ڈیمز کم ہیں اگر زیادہ ہوں تو سیلاب نہ آئیں ۔ ہمیں چائیے کہ ایک بڑے
ڈیم کے بجائے کئی چھوٹے ڈیم بنا لیں.

ڈیمز…….سیلاب …….خواہش نفس …….رمضان ……..بہت کچھ مکس ہوا تھا اس کے دماغ میں. بہت دیر سے الجھی گتھی اب جا کے سلجھی تھی .چودہ سو سال پہلے نفس کے سیل رواں کے آگے بہت سے چھوٹے چھوٹے ڈیمز بنائے جاتے تھے اور سیلاب کے دنوں میں بڑے ڈیم خالی رہ جاتے تھے مگر اب ہمارے پاس چھوٹے ڈیمز نہیں ہیں سو ہم گیارہ مہینے نفس کی طغیانی کا سامنا کرتے کرتے رمضان میں اس کے سامنے ایک بڑا سا کالاباغ ڈیم بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور جب پورے سال یہ سیل رواں اندر جمع ہوتا رہتا ہے اور مزید جگہ نہ ہونے کے باعث عید کے دن ٹی وی شوز گلی محلوں کے چوراہوں پر جو طوفان بد تمیزی برپا ہوتا ہے اس کی وجہ وہ سیل رواں نہیں بلکہ وہ ڈیم ہوتا ہے جو ہم ایک مہینے کے لئے بناتے ہیں. سوچوں کے اسی طوفان میں گھرے وہ کب کی نیند کی وادی میں اتر چکی تھی .
وہ چلتے چلتے ایک جھونپڑی کے باہر جا پہنچی تھی جہاں ایک بزرگ جاۓ نماز پر بیٹھے تسبیح کے دانے گرا رہے تھے بزرگِ محترم !کیا ایسا کرنا درست ہے کہ رمضان کا چاند دیکھتے ہی سب چیزوں اور ذرائع مواصلات کو ترک کرنے کردیں اور گوشہ نشین ہو جائیں…..وہ سراپا سوال بنی اس درویش کے سامنے ایستادہ تھی.
بیٹا ! یہ تو رہبانیت ہے اور اسلام تو دینِ فطرت ہے…..اور بیٹا کبھی کسی فوجی کو دیکھا ہے کہ وہ دورانِ جنگ ہتھیار لپیٹ کے رکھ دے…..نہیں نا….بیٹا جن کو تم فضولیات کہتی ہو نا….یہ تو آج کا ہتھیار ہیں…
پتہ ہے بیٹا ہم مسلمان اتنی پستی وذلت میں کیوں گھرے ہیں؟ کیوں کہ ہم منافق ہو گئے ہیں سب کے سب بحیثیتِ امت اور بالخصوص پاکستانی. جو دن ہماری ٹریننگ کے ہوتے ہیں وہ ہم سو کے گزار دیتے ہیں…..اور سارا سال روتے ہیں کہ ہم سے تو کچھ ہوتا نہیں..
مجدد الفِ ثانی نے کیا کہا ہے کہ جیسا تم رمضان گزارو گے ویسا ہی تمہارا پورا سال گزرے گا…
پھر تو یہ سب ٹھیک کرتے ہیں لمبی لمبی عبادات کر کے؟؟یکدم ابرش کو اپنی غلطی کا احساس ہوا….
نہ بیٹا….پھر تو سارا سال عبادتیں کریں نا یہ فلمیں گانے دنیا کے کام چھوٹتے کیوں نہیں ؟..حضور کہتے ہیں اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے…دل میں پتھر کا صنم ہو تو سجدوں میں خدا نہیں ملا کرتا.
رمضان آتا ہی اس لیے ہے کہ ہم دین اور دنیا کو ساتھ چلانا سیکھیں….یہ تو ٹریننگ سیشن ہے ….کہ نفس کو کنڑول کیسے کرنا ہے..کون سی چیز مثبت ہےاور کون سی منفی …یہ تو پورے سال کی چھنی ہے کہ روحوں کی , خیالات کی , نیتوں کی ، عبادات کی کثافت اوپر رہ جائے اور تم پاکیزہ ہو جاؤ….گندگی سب باہر چھوڑ کے چھنی میں بیٹھو گے تو چھانٹی کیسے ہو گی میرے بچے؟ چیزیں استعمال کرو گے ان کا بہترین استعمال سیکھ سکو گے نا… ان تیس دنوں میں خود کو بنا لو تمہاری فطرت بن جائیں گے وہ کام..وہ جو کہتے ہین نا کہ فطرت چالیس دن میں بنتی ہے غلط کہتے ہیں..ورنہ رمضان بھی کیا چالیس دن کا نہ ہوتا..

ابرش بیٹا اٹھو سحری کر کے پھر سو جانا…
وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی…….
جی امی اچھا …..وہ ایک عزم کے ساتھ بستر سے اتری تھی کہ تہجد کے بعد سحری اور پھر امتحان کی تیاری……کہ اب عیسائیت کی رہبانیت چھوڑ کر اسلام کی فطرت کو اپنانا تھا…..
۔۔۔

🎌 ھدٰی شیخ کی نظم ‘ میرا روزہ ‘ سوم قرار پائی ۔

میں سارا سال
زندگی کے جال میں پھنس کر
دنوں کو شام کرتی ہوں
رات کے دور دراز پہروں میں
جہاں نیند کی ڈوری پکڑتی ہوں
تو اسے صبح سویرے ہی
خیرباد کہتی ہوں
مجھے تو وقت نہیں ملتا
اپنے ہی الجھے بال
سلجھانے کا،
زندگی سلجھانے کا سوال کیوں کر ہو۔۔۔
میں مست ہوں
پیوست ہوں
زندگی کی بھاگم بھاگ میں
مجھے بس دوڑنا ہے
دوڑنا ہے
پر ناجانے کیوں؟
پھر اک شام
افق کی سیاہ کوکھ میں
اک چاند جنم لیتا ہے
سب کو نوید ہوتی ہے
ماہ صیام آ پہنچا۔۔۔
سب رک سے جاتے ہیں
وقت ٹھہر ہی تو جاتا ہے۔۔۔
اب دن کو رات کرنے تک
کئی سنہرے پہر ہونگے،
رات دیر تک بسر ہو گی سجدوں میں
صبحیں تمام میرے رب کے نام کی ہونگی
مجھ کو ٹھہرنا ہے
رک کے سوچنا ہے
میری حیات کا مقصد
اور
میری ذات کا مقصد
مجھے رکنا بھی ہے
سدھرنا بھی ہے
مجھے موقع ملا ہے
اپنے اندر سے باہر کی صفائی کا
گناہوں کی چھٹائی کا
یہ سب بھی کٹھن ہے
مجھے عادت نہیں ہے
رکنے کی، اور
رک کر سوچنے کی
مگر جب ضبط چھوٹے تو
یہ مجھ کو تھام لیتا ہے
میرا روزہ میرے سہارے کا
بہت ہی کام دیتا ہے
۔۔۔