ینگ ویمن رائٹرز فورم، اسلام آباد چیپٹر کے حال ہی میں منقعد کیے گئے ادبی سیشن میں بیرون شہر و بیرون ملک مقیم ممبران کو بذریعہ تبصرہ نصیر احمد ناصر کی شاعری کے، اس سیشن میں شرکت کا موقع دیا گیا ۔ ذیل میں اسی سیشن میں پیش کیا گیا ایک تبصرہ آپ سب کے ذوقِ مطالعہ کی نذر ۔۔۔

📖✒📖✒📖✒📖✒📖✒📖✒📖✒📖

تبصرہ از ابصار فاطمہ

جب معلوم ہوا کہ محترم جناب نصیر احمد ناصر صاحب اس بار ینگ ویمن رائٹرز فورم کی خصوصی مہمان ہوں گے اور اسلام آباد چیپٹر کے ارکان ان سے ملنے اور سیکھنے کی سعادت پا سکیں گے. ویسے تو ہم بھی اسی چیپٹر کا حصہ ہیں مگر ذرا سا فاصلے پہ لگا نقطہ ہیں. لیکن سوچا کہ اپنے تبصرے کی صورت مکمل نہ سہی جزوی شرکت کر لی جائے.
اس وقت ہاتھ میں تسطیر کا حالیہ شمارا موجود ہے جس میں جناب نصیر احمد ناصر صاحب کی اپنی مثال آپ شاعری موجود ہے. ہر فن پارے میں جو سب سے اہم بات نمایاں ہے وہ بیان کی سادگی ہے. کہیں موسیقیت سے بھرپور غزل
“آسماں وجد میں ہے اور زمیں رقص میں ہے” نظر آرہی ہے اور کہیں
“فاصلوں کے حصار میں رہنا” جیسی چھوٹی اور مختصر بحر میں امید و ناامیدی کی کشتی میں ڈولتے الفاظ.
مگر جس غزل کے ردیف نے رکنے، سوچنے اور لطف لینے پہ مجبور کیا وہ تھی
“ہے تیقن میں بھی زیاں الٹا
ہونے لگتا ہے ہر گماں الٹا،
دیکھنے میں سادہ سا لفظ برتنے میں کتنا مشکل ہے یہ برتنے والا ہی جانتا ہے.”الٹا” ردیف کے طور پہ منتخب کرنا دل گردے کا کام ہے کہ اب جو مصرعہ باندھا جائے گا وہ سیدھا کیسے ہو؟
پہلے شعر میں ہی دیکھیے جب بات یقین کی آگئی تو زیاں کیسا مگر یہی اس شعر کا لطف ہے. زندگی کے وہ پہلو اور وہ مواقع کہ جب انسان کو لگتا ہے کہ یقین کی جس منزل پہ وہ ہے اس کے بعد شک کی یا ابہام کی گنجائش ہی نہیں مگر پھر زندگی پلٹا کھاتی ہے. اور ہمارے سارے اندازے الٹ جاتے ہیں.

اگلے شعر پہ آئیے تو کیا خوب استعارہ استعمال کیا ہے.
“کھینچتی ہے ہوا کنارے کو
پھڑ پھڑاتا ہے بادباں الٹا”
کہاں تو کشتی کا کام ہوتا ہے کہ ہوا کہ زور پہ یا تو کنارے کی جانب کھنچے یا دور چلی جائے مگر ردیف کو اس خوبصورتی سے ٹانکا گیا کہ الٹی ہوتی تدبیروں کی عکاسی کر دی.

کیا خبر کیا ہے دوسری جانب
کس نے دیکھا ہے آسماں الٹا

اس شعر کو ادبی اعتبار سے دیکھا جائے تو بہت لطف دیتا ہے مگر سائنسی اعتبار سے دیکھا جائے تو مزید لطف دیتا ہے. کائنات کی وسعتوں میں جائیے تو جتنا آگے جائیں آسمان مزید دور ہوتا چلا جاتا ہے اور ان وسعتوں میں کیا کچھ چھپا ہے اس کی انتہا کیا ہے اور اس انتہا کے پار کیا ہے یہ تجسس اپنے آپ میں بہت پرکیف ہے. اسی خیال کو ہم ان تمام حوالوں کے تناظر میں دیکھیے کہ کیا کیا دعوے مذہب اور تاریخ نے کیے کہ آسمان میں کیا کچھ ہے مگر تصدیق کیسے ہو؟
“کس نے دیکھا ہے آسماں الٹا”

” جانے کس رخ سے آنچ آئے گی
آگ سیدھی ہے اور دھواں الٹا

یہی کیفیت ہمارے حالات کی ہے. اس شعر کو آپ ملکی حالات کہہ دیجیے یا انفرادی مگر جو دکھایا جاتا ہے وہ اتنا سیدھا ہے نہیں جتنا لگتا ہے. جو خطرے کی خبر دے رہے ہیں کیا جانئے وہی اصل خطرہ ہوں.

ایک سایہ سا پاؤں سے لپٹا
ساتھ چلتا ہے رائگاں الٹا
یہ سایہ ہماری ذمہ داریاں بھی ہیں ہمارے ماضی کے پچھتاوے بھی ہیں. جو قدم قدم پہ ہمارے ساتھ ہیں سائے کی مانند تاریک، ہر وقت احساس زیاں دلاتے. مگر ان سے چھٹکارا ممکن نہیں.

میں ریاضت میں محو تھا ناصر
اس نے برگد کو ناگہاں الٹا
یہ شعر کچھ بہت اہم ضائع ہوجانے کا احساس جگاتا ہے. وہ آسرہ جس کے بل پہ ہم اپنا سب کچھ داؤ پہ لگا دیں. کسی کا وعدہ، کسی کے ساتھ کا یقین، کوئی سرمایہ، کسی کی شفقت کچھ بھی ہوسکتا ہے مگر جب وہ چھین لیا جائے. تو کیا حال ہوگا. برگد کے الٹنے سے جو پہلا خیال آتا ہے وہ بے سائبانی کا کسی محترم رشتے سے چھوٹ جانے کا. جو شاید خدا سے شکوہ ہے ہے کہ جب خدمت کرنے کی عمر آئی ہو اور والدین چھوڑ جائیں تو کیا کیفیت ہوتی ہے.
برگد کا الٹا قسمت کی ناگہانی آفت کی طرف اشارہ بھی ہے اور کسی کے کسی شدید دھوکے کی عکاسی بھی.
مجموعی طور پہ یہ غزل جتنی سادہ پہلی بار میں پڑھنے پہ لگتی ہے اتنی سادہ ہرگز نہیں. جتنی بار پڑھیں مزید جہتیں اور تشریحات سامنے آتی ہیں. اور یہی عمدہ شاعری کی خوبصورتی ہے.

📖✒📖✒📖✒📖✒📖✒📖✒📖✒
 

از ثروت نجیب ـ افغانستان
تبصرہ ” گلوریا جینز میں شام”
شاعر ” نصیر احمد ناصر ”

نصیر احمد ناصر صاحب کی نظم پہ تبصرہ کرنا سورج کو چراغ دیکھانے جیسا ہے مگر میں چراغ دیکھانے کے بجائے چاندنی کی طرح ان کی نظم کا عکس بننا چاہوں گی ـ تاکہ سورج کی مستعار روشنی کو اپنے نظریے میں ڈھال کر پھر سے اجالا کر سکوں ـ نصیر صاحب عصرِ حاضر کے وہ نظم گر ہیں جن کی نظموں کے طلسم نے وقت کو روک رکھا ہے ـ وہ بزرگوں کی طرح اس زمانے میں نہیں جیتے جب چینی آٹھ روپے سیر تھی اور شکر دس روپے ہوا کرتی تھی ـ نصیر صاحب کی سوچ میں وہی نوخیزی ہے جو آج کے نوجوان میں ہوتی ہے ـ جب وہ گلوریا جینز میں بیٹھے کافی کے کڑوے گھونٹ خوشی خوشی حلق میں اتارتے محبت ایک نئے زاویے سے دیکھتے ہیں جس زاویے سے آج کا نوجوان دیکھ تو نہیں سکتا مگر اپنائیت محسوس کر سکتا ہے ـ یہ ماحول انھوں نے ہر ایک کے دل میں ً گھر کرنے کے لیے شاید نہ چنا ہو اتفاقی ہو مگر جو نظم اس ماحول میں لکھی وہ آج کے دور کے لیے کئی سوال چھوڑتی ہے ـ وہ سوال جو خلش تو ہیں مگر لب پہ نہیں آتے ـ قاری کو اس کے ماحول میں انھی کی زبان میں صدیوں کے سفر سے آشنا کرانے کا ہنر نصیر صاحب کو خوب آتا ہے ـ

نظم کا عنوان ہے ” گلوریا جینز میں شام ”

نظم گلوریا جینز میں سامنے بیٹھی ساکت و صامت لڑکی سے شروع نہیں ہوتی بلکہ اس پہ ختم ہوتی ہے کئی زمانوں کا سفر طے کر کے تاریخ کھنگالتی ہوئی ـ ہر ایک زمانہ محبت کا سفیر جہاں وہ ان سے ملی ـ آفرینش کے بعد تھمے ہوئے وقت سے اس زمانے تک جب نباتات اور حیوانات اس دھرتی کی سجاوٹ تھے آیس ایج سے ارتقائی مراحل تک جب اور پھر کھیل ہی کھیل میں تاریخ کا آغاز ہو جاتا ہے ـ جس میں ایک ننھا نواسہ ہے جو کھلونوں سے نہیں زمانوں سے کھیلتا ہے ـ اس میں حیرت کیا ہے؟ اس کا جواب بھی خود انھوں نے دے دیا ـ نظم پانی کی طرح رواں ‘ لہر در لہر سفر کرتی ہے ـ نظم ایک مدعا پہ منحصر نہیں رہتی وہ دماغ کے خلیوں میں اختراع اور تخیل کی تصویر بن جاتی ہے ـ جہاں پانی پہ تیرتے گھر پڑھنے والے کو وینس لے جاتے ہیں ـ جہاں جیوٹو ‘ ڈاونچی اور مائیکل اینجلو کا دور شروع ہوتا ہے ـ دربار سجتا ہے اور کمیشن پہ دھڑا دھڑا معصوم کنواری مریم کی مصوری کرنے والے رینیسانس کے دور کو جِلا بخشتے ہوئے آرٹسٹ پھر دھیرے دھیرے میوزیم میں مقید ہو جاتے ہیں ـ خوابوں کو کیمو فلاژ ہوتے دیکھنا بھی کیسی اذیت ہے جس کے بعد دنیا اتنے حصوں میں بٹ گئ جسے دیکھانے کے لیے ہاتھ کی لکیریں نا کافی ہیں ـــ دھرتی کا سب سے کڑوا سچ جو انھوں نے اتنی آسانی سے بیان کیا اس سے پہلے وہ کہتے تب دنیا مسکان کی طرح دو حصوں میں منقسم تھی ـ کیا آپ جانتے ہیں وہ حصے کون سے تھے جس میں نصیر صاحب نے دنیا کو دو حصوں میں منقسم کیا ـ میں بتاتی ہوں ـ وہ خشکی اور تری کے دو حصے تھے جب دھرتی پہ پانی اور خشکی کی حد بندی کے سوا کوئی حد بندی وجود میں ہی نہیں آئی تھی ـ دنیا میں صرف قدرتی تقسیم پہ یقین رکھنے والے تو کب کے ناپید ہو گئے ہیں ـ حدوداربعہ سے عشق کرنے والے وطن کے نغمے گا کر داد بٹورنے والوں کے لیے یہ بات کتنی جالب ہوگی ‘ کیا خبر ـــ مگر مجھے ذاتی طور پہ جنگ ذدہ شہر کی چمنیوں اور سوراخوں سے تازہ ہوا جو محسوس ہوئی وہ مجھے امید دے گئی ـ نظم کا آھنگ دھیرے دھیرے قاری کو اپنے سحر میں جکڑنے لگتا ہے ـ قاری زمانوں میں سفر کرتا کسی خلا نورد کی طرح تیرتا سمتوں کا منتظر ہے جہاں ابھی تک حاشیے نہیں لگے ـ تبھی نصیر صاحب قاری کی انگلی تھامے انھیں واپس لاتے ہوئے وہ منظر دکھاتے ہیں جہاں ایک دشت تھا اور اس دشت پہ جب گلوریا جینز کا سائن بورڈ نہیں لگا تھا ـ شھر کے اطراف میں دیہی زندگی عروج پہ تھی ‘ چند معدودے گھروں پہ مشتمل گاؤں کے مرد بکرایاں چراتے ‘ فصل اگاتے ‘ اور ڈگڈگی بجاتے پالتو بندر کا تماشا کرنے شھر جاتے اور حیرت سے بدلتے رنگ روپ دیکھ کر رات کھلے آسمان تلے ٹھنڈے چاند کی روشنی میں سو جاتے ـ اب شھر ان کے گاؤں کو نگل چکا ہے ـ کیا پتہ گلوریا جینز کیفے سے پہلے یہاں کس بیابان نے تنہائی کے صدمے اٹھائے ہونگے ـ جہاں اب محبت بھرا سکوت ہے وہاں کسی ٹیلے پہ بیٹھے چرواہے نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا کہ یہ مکاں ایک دن ایک اور جہاں ہو جائے گا ـ اب وہاں شھر کا شھر آباد ہے گنجان مگر ایک دوسرے سے اجنبی لوگ ـ جن میں بس ایک بات مشترک ہے وہ ہے گھر کی تمنا ‘ جب وہ پوری ہوئی تو کسی نے یہ تک نہ جاننا چاہا کہ یہاں پہلے کیا تھا؟ کیوں تھا؟ ـ ایک نظم گر نے لفظوں سے تراش کے جذبوں کو وہ زمانے دیکھائے جسے دنیا کی سات زبانوں میں ترجمہ کر کے اجنبیت کی چادریں چاک کر دی ـ نصیر صاحب کی نظموں میں سب سے بڑی خاصیت ان کا آفاقی ہونا ہی ہے ـ وہ کوزے میں بند نہیں ہوتیں ‘ بہاؤ پہ یقین رکھتی ہیں ـ دل سے آنکھ تک ـ زبان سے بیان تک ‘ مکان سے لامکان تک بہتی چلی جاتی ہیں ـ ایک بہتی گنگناتی ندی کی طرح یہ نظم جب شروع ہوتی ہے تو کردار سامنے آتے ہیں وہ کون تھے ـ محبوب اور محبوبہ ‘ آدم اور حوّا ـــ
مجھے تو ان میں بابا آدم اور آمّاں حوا نظرا آئے ـ جو وقت کی مسافتوں کا سفر طے ہوتے ہوئے دیکھ رہے تھے ـ حوّا منہ کھولے ورطہ حیرت میں گم تھیں ـ آئس ایج سے ایک گاؤں کے سیوک سینٹر میں بدلنے تک وہ حیران ہیں ارتقائی مراحل پہ ـ
میرے لیے نظم کسی کوزہ گر کے چاک پہ رکھی مٹی جیسے ہوتی ہے ـ جِسے اپنے لفظوں سے نظم نگار فن پارے میں ڈھالتا ہے ـ کبھی چاک سے ایک کاسہ اتارا جاتا ہے ننھا منا مگر پیارا سا ‘ کبھی مرتبان ‘ جس میں گھر گھرہستی کی سوندھی خوشبو کے ساتھ کٹھاس بھی ہوتی ہے ‘ کبھی گھڑا جو عشق کی تشنگی بجھانے کی کوشش کرتا ہے کبھی صراحی جس میں نزاکت ہوتی ہے ـ نصیر صاحب کی یہ نظم جب میں نے پڑھی تو مجھے لگا نصیر صاحب نے لفظوں کے چاک سے نظم کو گلدان کی صورت میں اتارا ہے ـ اس کا اوپری حصہ محبت کی طویل کہانی کو جامع کرتا ہوا درمیانی حصہ زمانوں پہ محیط ایک گولائی میں اور آخری حصہ وہ سٹینڈ ہے جس میں دو رویہ ایک قبرستان کا ذکر ہے جو دل کھینچ لیتا ہے ـ آہ انسان اتنے زمانے گزارے والا آخر اپنی اوج پہ پہنچ کے مر جاتا ہے ـ وہ قبرستان جس سے دو رویہ قبروں کے کنارے رکھے سبز بینچ پہ بیٹھنے والے گزرے وقتوں کی یاد اور پشیمانی پہ آنسو بہاتے ہیں ـ اگر بتیاں جلاتے ہیں اور شیشے کی چھپری سے صحیفے نکال کر گئے زمانے کو واپس بلاتے ہیں ـ
زندگی بالا آخر محبت سے شروع ہو کر محبت پہ ختم ہو جاتی ہے ـ اس کے درمیان ہونے والی ساری کشیدگیاں اور گِلے قبر کی مٹی چاٹ جاتی ہے ـ
نصیر صاحب کی خاصیت ہے وہ حال میں جیتے ہیں ـ ان کی نظموں میں انگریزی اور ہندی الفاظ کا تڑکا ان کی نظموں کو مزید نکھارتا ہے ـ وہ ہر موڑ پہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ نظم تتلی کے پروں پہ لکھی گئی روداد ہوتی ہے ـ اسے آذاد چھوڑ دینے میں عافیت ہے ورنہ تتلی کے پر رنگ کھو دیتے ہیں ـ
نصیر صاحب کی خوبصورت نظم آپ بھی ملاحظہ کریں ـــ

“گلوریا جینز میں شام ۔۔۔۔۔”

آج بہت دنوں بعد

گلوریا جینز میں کافی پیتے ہوئے

آخری سِپ کے ساتھ

شام کو بھی انڈیل لیا ہے منہ میں

معدہ چاکلیٹی تنہائی سے لبا لب ہو گیا ہے

اور تم کاغذی مَگ ہاتھ میں پکڑے

ہمیشہ کی طرح منہ کھولے، ساکت و صامت

ناگاہ ہونے والی اِس ملاقات میں

میری طرف دیکھتے ہوئے سوچ رہی ہو

کہ آفرینش سے پہلے تھما ہُوا وقت

گلوریا جینز میں کیسے آ گیا ہے

جب میں نے تمہیں پہلی بار دیکھا تھا

شام اِسی طرح مٹ میلی تھی

تاریخ ابھی شروع نہیں ہوئی تھی

زمین پر صرف جغرافیہ تھا

پرندوں اور جانوروں کا ترتیب دیا ہُوا

اور وقت سایوں کی طرح چلتا تھا

اور تم یونہی حیران و پریشان

میری طرف دیکھ رہی تھیں

تم نے کبھی خود کو باخبر نہیں رکھا

تمہیں نہیں معلوم کہ آج کل

میری دنیا چھوٹی سی ہے

عالمِ نبات و حشرات کی طرح

جس میں چیونٹیوں کی قطاریں ہیں

پرندوں کے گھونسلے ہیں

لچک دار پلاسٹک کے سانپ اور کیڑے مکوڑے ہیں

اور آئس ایج کے زمانے سے کھیلنے والا

ایک ننھا نواسا ہے

اس میں حیرت کی کیا بات ہے؟

سائبر ایج کے بچے

کھلونوں سے نہیں زمانوں سے کھیلتے ہیں

اور کھیل ہی کھیل میں

تاریخ کا آغاز ہو جاتا ہے

اور خاتمہ بھی ۔۔۔۔

پانی پر تیرتے مکان اور آبی شاہراہیں

اور مصوروں اور مجسموں کے شہر

آباد ہوتے اور اجڑ جاتے ہیں

بادشاہوں کی میتوں کے ساتھ

ہزاروں مصاحبین زندہ دفن کر دیے جاتے ہیں

اور عہد بہ عہد صدیاں ویران ہو جاتی ہیں

تمہیں نہیں یاد کہ دوسری بار

میں نے تمہیں دشمن سرزمینوں کے عین وسط میں دیکھا تھا

زیرِ زمین سرنگوں میں

جھک کر چلتے ہوئے اور رینگتے ہوئے

اور غاروں کے اندر بنے ہوئے گھروں میں

جہاں سوراخوں اور چمنیوں سے تازہ ہوا آتی تھی

گہری نیند میں

خوابوں کو کیمو فلاژ کیے ہوئے

اور ہونٹوں کے بیچ مسکراہٹ کی لکیر کھنچی ہوئی

جیسے دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہو

اب تو دنیا اتنے ٹکڑوں میں بٹ چکی ہے

کہ اسے دِکھانے کے لیے

ہاتھوں کی لکیریں بھی ناکافی ہیں

اور اِس جگہ

جہاں اب شہر آباد ہے

اور ہم بیٹھے ہوئے ہیں گلوریا جینز میں

میں نے تمہیں آخری بار دیکھا تھا

یہاں چند گھر تھے،

ایک راستہ تھا، ایک موڑ تھا، جہاں میں کھڑا تھا

بدترین شکستوں اور ہزیمتوں کے ساتھ

گلیاں سنسان اور چھتیں خالی تھیں

درختوں اور مکانوں سے دھواں اٹھ رہا تھا

اور تمہاری صرف ایک جھلک تھی

دشمن نے دلوں اور ذہنوں کے سارے رابطے جام کر دیے تھے

پہاڑوں نے ہمیں پناہ نہیں دی تھی

اور بادل بے وقت برس رہے تھے

اور آج پھر ۔۔۔۔۔ یگوں بعد

ہم مِلے ہیں گلوریا جینز میں

اور ہمیشہ کی طرح تمہیں نہیں معلوم

کہ ہم ایک ہی ہاؤسنگ سوسائٹی میں رہتے ہیں

ہماری کوئی تاریخ ہے نہ جغرافیہ

بس ایک سوک سینٹر ہے

اور ایک قبرستان

اور گلوریا جینز میں

وقت تھما نہیں، روشنی کی رفتار سے سڑپ رہا ہے!!

📖✒📖✒📖✒📖✒📖✒📖✒📖✒