کوئٹہ کے معروف تعلیمی ادارے بیوٹمز کے زیرِاہتمام پہلا “کوئٹہ لٹریری فیسٹیول”، ۷ تا۸ مئی،۲۰۱۸ کو منعقد ہوا۔ اس ادبی میلے میں ینگ ویمن رائٹرز فورم کو بھی شرکت کے لئے مدعو کیا گیا۔ فورم کی بانی محترمہ بشریٰ ملک کی رہنمائی اور شریک بانی ھدیٰ شیخ کی انتھک محنت سے اتنے کم وقت میں ناصرف کوئٹہ چیپٹر کی تشکیل ممکن ہوئی بلکہ چیپٹر نے بطور پینل انکے ایک سیشن میں بھرپور شرکت کی۔
کوئٹہ کے اس پہلے بڑے ادبی میلے کے دو دن کے شیڈول میں فنونِ لطیفہ، تعلیم اور ادب سے متعلق عنوانات پر مختلف سیگمنٹس تھے۔ فورم کو فیسٹیول کی پہلی شام منعقد کیے گئے مشاعرے، “بانگِ نوَ” میں شرکت کی دعوت دی گئی، یہ مشاعرہ نئے اور ابھرتے ہوئے شعراء کی ترجمانی کے لئے تھا۔ اس مشاعرے میں فورم کی نمائیندگی محترمہ نیلم آفریدی، پشاورچیپٹر کی پریزیڈنٹ ہیں اور محترمہ کائنات حمید، پشاور چیپٹر کی کمیٹی ہیڈ، نے کی۔ د ونوں نے پشتو زبان میں اپنا کلام سنا کر ناصرف فورم بلکہ اپنی علاقائی زبان پشتو کی نمائیندگی کی اور مشاعرے کے شرکاء اور حاضرین سے بےحد داد وصول کی۔

کوئٹہ لٹریری فیسٹیول کے دوسرے دن ینگ ویمن رائٹرز کو ایک سیشن میں مدعو کیا گیا جس کا عنوان تھا “علاقائی زبانوں کے فروغ کے لئے ینگ ویمن رائٹرز فورم کی کاوشیں”۔ فورم کی جانب سے پانچ پینیلسٹ نے اس سیشن میں شرکت کی جن میں کوئٹہ چیپٹر کی شریک بانی ھدیٰ شیخ، پشاور چیپٹر کی پریذیڈنٹ نیلم آفریدی، براہوی اور اردو زبان کی مشہور شاعرہ اور لکھاری حمیرا صدف حسنی، بلوچی زبان کی شاعرہ شاھینہ شاہین اور پشاور چیپٹر کی کمیٹی ہیڈ کائنات حمید شامل تھیں۔ اس سیشن کی موڈیریٹرلاریب برق تھیں، جن کا تعلق بیوٹمز سے ہے۔
ھدیٰ شیخ نے اس سیشن میں پنجابی زبان کی نمائندگی کی اور اس کے عروج اور زوال کا حال بیان کیا۔ انہوں نے پنجابی شاعری کرنے کے حوالے سے اپنی ذاتی جدوجہد کا ذکر کیا کہ کیسے پنجابی گھرانے میں ہی بچوں کو یہ زبان بولنے سے روکا جاتا ہے جو کہ اس زبان کی حالیہ ادبی زبوں حالی کی اصل وجہ بنی، اور آج پنجابی ادب کے افق پر ماضی جیسے بڑے نام نہیں ملتے۔ انہوں نے اپنا پنجابی کلام سنا کر حاضرین سے داد وصول کی۔

حمیرا صدف حسنی کا تعلق کوئٹہ کے ایک ادبی گھرانے سے ہے، ان کی والدہ پروفیسر طاہرہ احساس جتک کو ان کی چالیس سالہ ادبی خدمات پر صدارتی ایوارڈ “تمغہءِامتیاز” سے نوازا گیا۔ حمیرا صدف حسنی سیشن میں فورم کی جانب سے براہوی زبان کی نمائیندگی کی۔ انہوں نے بڑے فخر سے یہ بتایا کہ بلوچستان کی خواتین کا ادبی رجحان اور کاوشیں اب دنیا کے سامنے آرہی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خواتیں کو آگے بڑھنے اور اپنا کام منوانے کے لئے معاشرتی رویؔوں کا مقابلہ علم اور شعور کی بنیاد پر کرنا ہوگا۔ مادری زبان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے اور اس کو زندہ رکھنے کے لئے ہمیں گھروں میں بچوں کے ساتھ اپنی مادری زبان میں ہی بات کرنی چاہئے۔ حمیرا صدف صاحبہ کی اردو اور براہوی زبانوں میں شاعری اور فلسفے کے موضوعات پر کئی کتب چھپ چکی ہیں۔ انہوں نے براہوی اور اردو زبان میں اپنا کلام سنا کر حاضرین کی داد وصول کی۔

شاھینہ شاہین بلوچی زبان کی شاعرہ ہیں، انہوں نے فورم کے کوئٹہ چیپٹر کی جانب سے اس سیشن میں بلوچی زبان کی نمائیندگی کی۔ انہوں نے آغاز بلوچی زبان کی قدیم تاریخ کے تعارف سے کیا، اور یہ زبان بہت سے ممالک میں بولی اور سمجھی جاتی ہے، خاص کر مشرقِ وسطي میں۔ اپنے ادبی سفر کے حوالے سے انہوں نے حاضرین کو بتایا کہ کیسے بچپن میں انہیں یہ بھی معلوم نہ تھا کہ بلوچی زبان میں ادب بھی ہوتا ہے اور تحفے میں ملے ایک بلوچی رسالے سے وہ بلوچی شاعری کی جانب مرغوب ہوئیں اور خود لکھنا شروع کیا۔ آب وہ ایک بلوچی میگزین “دزغوار” کی خاتون ایڈیٹر ہیں اور پی۔ٹی۔وی بولان کی بلوچی کمپئر بھی ہیں

کائنات حمید نے فورم کی جانب سے علاقائی زبانوں کے حوالے سے کیے جانے والے کام کے بارے میں بتایا کہ کیسے خواتین کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ اپنی مادری اور علاقائی زبان میں اظہار کریں۔ کائنات نے یہ بھی بتایا کہ کیسے فورم نے آٹھ خواتین کی کتابیں اکٹھی ایک ہی دن میں شائع کروا کر ناقدین کو مثبت اور موئثر جواب دیا۔ ان کی اپنے شاعری کی کتاب “آ ڈیکیڈ آف ڈیلائٹ” انگریزی میں شائع ہو چکی ہے ۔ انہوں نے اس بات کی اہمیت پر زور دیا کہ ہمیں اپنی مادری اور قومی زبان کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی زبانوں پر بھی عبور حاصل کرنا ہوگا تاکہ اپنی بات پوری دنیا تک پہنچائی جاسکے۔

حاضرین نے سیشن میں خوب دلچسپی لی، سوال جواب کے حصے میں سوال بھی کئے اور ینگ ویمن رائٹرزفورم کی کاوشوں کو بہت سراہا۔ نمایاں حاضرین میں سندھی زبان کی اسکولر اور محقیق پروفیسر امر سندھو،  ادیبہ خواتین کے حقوق کی علمبردارعطیہ داؤُد، پاکستان کے مشہور لکھاری مشرف علی فاروقی اور سماء چینل کی ایڈیٹرماہم ماہر جیسے بڑے نام موجود تھے۔
نیلم آفریدی نے ینگ ویمن رائٹرز فورم کا جامع تعارف پیش کیا۔ انہوں نے فورم کی ضرورت اور اسکو بنانے کے لئے بشریٰ اقبال ملک صاحبہ اور ڈاکٹر سلمیٰ مسعود خان صاحبہ کی کاوشوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے ہمارے معاشرے میں مجموعی طور پرلکھاری خواتین کو درپیش مسائل بیان کئے اور یہ بھی بتایا کہ فورم کیسے ان مسائل اور رکاوٹوں کا تدارک کر رہا ہے۔
ھدیٰ شیخ نے کوئٹہ چیپٹر کے آغاز کے حوالے سے بتایا کہ کوئٹہ چیپٹر ینگ ویمن رائٹرز فورم کے گلدستے میں ایک اور مہکتا ہوا اضافہ ہے ینگ ویمن رائٹرز فورم کی بانی کی دیرینہ خواہش تھی کہ کوئٹہ میں فورم کے چیپٹر کا آغاز کیا جائے – تاکہ یہاں کی خواتین کے ادبی ذوق اور شوق کو مزید جلاء ملے۔ بلوچستان میں خواتین تعلیمی، ادبی اور فنونِ لطیفہ کے میدان میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔  کیو۔ایل۔ایف کے انعقاد سے ادب ادبإ اور خاص طور پر خواتین کوتقویت ملی ہے۔ فورم  محترمہ پروفیسرعکسہ مریم اور انکی ٹیم کو اتنے بڑے ادبی میلے کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتا ہے۔ اور کو ٸٹہ کی خواہشمند خواتین کو فورم میں شامل ہونے کی دعوت بھی دیتا ہے۔

رپورٹ  , ھدیٰ شیخ

شریک بانی، ینگ ویمن رائٹرز فورم، کوئٹہ چیپٹر